ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2026 میں مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کر لیا، جبکہ پنجاب کی ٹیم مجموعی طور پر دوسرے نمبر (رنرز اپ) پر رہی۔
پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے تعاون اور منظوری سے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی عبوری کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی پانچ روزہ قومی چیمپئن شپ نیشنل کوچنگ سینٹر لاہور میں اختتام پذیر ہوئی۔ ملک بھر سے آنے والے ویٹ لفٹرز نے مختلف وزن کی کیٹیگریز میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
چیمپئن شپ کی نمایاں ترین کارکردگی پنجاب کے 17 سالہ نوجوان ویٹ لفٹر فرقان احمد نے پیش کی، جنہوں نے 88 کلوگرام کیٹیگری میں نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔ فرقان نے سنیچ میں 145 کلوگرام اور کلین اینڈ جرک میں 180 کلوگرام وزن اٹھاتے ہوئے مجموعی طور پر 325 کلوگرام وزن اٹھایا، جو گزشتہ برس کراچی میں ہونے والی 35ویں نیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں ان کے 315 کلوگرام کے ریکارڈ سے بہتر ہے۔
پنجاب ہی کے 17 سال سے کم عمر ویٹ لفٹر حیدر شکیب، جو 2024 میں روس کے فار ایسٹ کپ میں سلور میڈل بھی جیت چکے ہیں، نے 94 کلوگرام کیٹیگری میں مجموعی طور پر 287 کلوگرام وزن اٹھا کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ فرقان احمد اور حیدر شکیب دونوں بین الاقوامی چیمپئنز اور ریکارڈ ہولڈرز شجاع الدین ملک اور سجاد امین ملک کی نگرانی میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے لیے بھی یہ ایونٹ تاریخی ثابت ہوا، جہاں 17 سال سے کم عمر ویٹ لفٹر امیر حمزہ نے 110 کلوگرام کیٹیگری میں 270 کلوگرام وزن اٹھا کر صوبے کی تاریخ کا پہلا گولڈ میڈل جیت لیا۔ امیر حمزہ سابق قومی چیمپئن اور بین الاقوامی ویٹ لفٹر عالم دین کے صاحبزادے ہیں۔
خواتین کے مقابلوں میں ایچ ای سی کی کھلاڑیوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ماہم قاسم، سحر واعین، اقصیٰ بشیر، عائشہ جہانگیر، زوہا جاوید اور فضا کھوکھر نے اپنے اپنے وزن کے زمرے میں طلائی تمغے حاصل کیے، جبکہ پنجاب کی ایمان فاطمہ اور سمائیکہ بٹ بھی اپنے ایونٹس میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہیں۔
