ایران میں جاسوسی کے الزام میں قید برطانوی جوڑے کریگ اور لنڈسے فورمین کے اہلِ خانہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی عدالت نے کریگ فورمین کی سزا میں مزید دو سال کا اضافہ کر دیا ہے۔ خاندان کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ انہوں نے دورانِ قید میڈیا سے گفتگو کی تھی۔
موٹرسائیکل پر دنیا بھر کے سفر کے دوران ایران پہنچنے والے کریگ اور لنڈسے فورمین کو 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں کو بعد ازاں جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ برطانوی حکومت بھی ان سزاؤں کو "مکمل طور پر ناقابلِ جواز” قرار دے چکی ہے۔
لنڈسے فورمین کے بیٹے اور خاندان کے ترجمان جو بینیٹ کے مطابق کریگ فورمین کو یہ کہہ کر عدالت لے جایا گیا کہ انہیں اپنے وکیل سے ملاقات کرائی جائے گی، مگر وہاں جج نے انہیں بتایا کہ میڈیا سے بات کرنے کے باعث ان کی سزا میں مزید دو سال کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران کریگ فورمین کو نہ تو وکیل تک رسائی دی گئی اور نہ ہی مترجم فراہم کیا گیا، جبکہ انہیں اپنے دفاع کا مؤثر موقع بھی نہیں دیا گیا۔
