مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا مسجد پر حملہ، آگ لگا دی، گھروں اور ڈیری فیکٹری کو بھی نذر آتش

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک اور پرتشدد کارروائی کرتے ہوئے التوانی گاؤں کی ایک مسجد کو آگ لگا دی، جبکہ دو رہائشی گھروں اور ایک ڈیری فیکٹری کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ فلسطینی حکام نے واقعے کو "دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے، جبکہ اسرائیلی پولیس نے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گاؤں کی کونسل کے سربراہ محمد ربیع نے بتایا کہ رات گئے دو درجن سے زائد، جن میں بعض نقاب پوش افراد بھی شامل تھے، آبادکار التوانی گاؤں میں داخل ہوئے اور التقویٰ مسجد کو آگ لگا دی۔ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں گرافٹی بھی تحریر کی اور قریبی دو گھروں سمیت خواتین کے زیر انتظام چلنے والی ایک ڈیری فیکٹری کو بھی نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب فلسطینی سماجی کارکن اسامہ المخامرہ نے دعویٰ کیا کہ آبادکاروں نے یہ حملہ اسرائیلی فوج کی موجودگی اور نگرانی میں کیا، کیونکہ مسجد کے قریب اسرائیلی فوج کی ایک نگرانی چوکی موجود ہے۔ تاہم گاؤں کے سربراہ کے مطابق اسرائیلی فوج، پولیس اور فائر سروس کے اہلکار حملے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد موقع پر پہنچے اور نقصانات کا جائزہ لیا۔

فلسطینی وزارتِ مذہبی امور نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "مکمل دہشت گرد کارروائی” قرار دیا۔ وزارت نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اسرائیل کی انتہا پسند حکومت آبادکاروں کے تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ فلسطینیوں کو مسافر یطا کے علاقے سے بے دخل کیا جا سکے اور تنازع کو مذہبی رنگ دیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے