چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ 27 جولائی کو تیر سے شیر کا وہ شکار کریں گے کہ تاریخ یاد رکھے گی۔ کہا وزیراعظم نے کشمیریوں سے متعلق وزیر دفاع کے بیان پر آج تک جواب نہیں دیا۔ جب تک خواجہ آصف کابینہ میں ہیں ہم سمجھیں گے یہ حکومت کی پالیسی ہے۔
کوٹلی میں جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو ن کہا کہ کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، وفاقی حکومت سےمطالبہ ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی ختم کرے، راولاکوٹ میں مسئلہ ہے تو کوٹلی میں انٹرنیٹ کیوں بند ہے؟ مظاہرین کسی غلط کام کی سزاعام کشمیری کو دے رہے ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہاہوں، گلگت بلتستان میں حق حاکمیت،ملکیت اورحق روزگارکاوعدہ کیا، آزادکشمیرکوبھی حق حاکمیت، ملکیت اور حق روزگار دلوانا چاہتاہوں، گلگت بلتستان میں پہلی باروفاق کو شکست ہوئی، آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ کوئی اورنہیں صرف کشمیر کے عوام کرسکتے ہیں، کشمیرکےجوان اصلاحات کامطالبہ کرتےہیں، فیصلہ سازی کے اداروں میں آزادکشمیر کی نمائندگی ہونی چاہیے، میں نے کہا تھا کوٹلی کے امیدوار کو قومی اسمبلی میں بھی ہونا چاہیے۔ کشمیر کے نمائندوں کوقومی اسمبلی میں عبوری آبزرور کے طور پر ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مظفرآباد پہنچاتو کالعدم ایکشن کمیٹی والوں نے مجھے خط لکھا، اس خط میں حالات بہتربنانے کیلئے کردار ادا کرنے کو کہا گیا، میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ ریاست پاکستان اوراحتجاج کرنے والوں کوایک تجویزہے، ایک ٹروتھ کمیشن بنایاجائے اور تحقیقات کی جائے کہ سچ کیاہے، ٹروتھ کمیشن کی تحقیقات مکمل ہونے تک احتجاج ختم کیاجائے، میری بات مانی جاتی تواسپیس بن سکتی تھی
