ایف آئی آر کے بعد دیے گئے اضافی بیان پر گرفتاری غیر قانونی قرار

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی آر کے بعد دیے گئے اضافی بیان پر گرفتاری غیر قانونی قرار دے دی۔عدالت نے سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر گرفتاری کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دے دیا۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم عمر فاروق کی درخواست ضمانت کیس میں فیصلہ جاری کیا، اس کیس میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان سمیٹ دیگر افسران پیش ہوئے۔ عدالت نے لکھا کہ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ قانون میں سپلیمنٹری بیان کی کوئی شق موجود نہیں،تفتیشی افسران شاطرانہ مقاصد کے لیے سپلیمنٹری بیانات کا سہارا لیتے ہیں، اب صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ محض شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دیے گئے اضافی بیان پر گرفتاری غیر قانونی ہے ،پولیس کے سامنے اعترافِ جرم قانوناً کوئی حیثیت نہیں رکھتا،عدالت کا آئی جی کو فیصلے کی نقل پنجاب کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو سپلیمنٹری بیانات کی بنیاد پر گرفتاریوں کا سخت قانونی جائزہ لینے کا حکم دے دیا، فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ دو ہفتوں میں لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے قتل کیس میں ملزم عمر فاروق عرف احتشام کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے