ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں پاکستان کی ریاست اور اس کے اداروں، بشمول مسلح افواج، کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے اور ریاست پر عوام کا اعتماد متزلزل کرنے اور سراسیمگی پھیلانے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، اشتعال انگیز، توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد پھیلایا، جبکہ ریاستی اور سکیورٹی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا بھی کیا۔
حکام کے مطابق نورین نیازی کے خلاف پیکا 2016 کی دفعات 20 اور 26-A جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 505 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ متنازعہ پوڈکاسٹ انٹرویو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مختلف اکاؤنٹس پر شیئر ہونے کے بعد وائرل ہوا، الزام عائد کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے معرکۂ حق کے دوران افواجِ پاکستان کی کامیابیوں کو جھٹلانے اور جھوٹا بیانیہ پھیلا کر عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
دستاویز کے مطابق نورین نیازی کو متعدد بار نوٹس جاری کرکے بیان ریکارڈ کرانے اور تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی، تاہم ابتدائی شواہد کی بنیاد پر بادی النظر میں جرم ثابت ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق کیس میں دیگر ممکنہ کرداروں کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔
