ناقابل تقسیم صرف پاکستان ہے، صوبوں کی تقسیم کو غداری کہنے سے بڑی کوئی غداری نہیں: خالد مقبول

متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ناقابل تقسیم صرف پاکستان ہے، صوبوں کی تقسیم کو غداری کہنے سے بڑی کوئی غداری نہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھاکہ پاکستان کا علاج اب درد کی گولیوں سے نہیں ہوگا، اب سرجری کا وقت ہے، کینسر زدہ اعضا کو پاکستان سے نکال دیں، اسلام آباد میں پاکستان کی تمام تاجر برادری کا اجتماع ہوا اور اس اجتماع میں بھی ایم کیو ایم کے دیرینہ مؤقف کی تائید ہوئی کہ ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ناقابل تقسیم صرف پاکستان ہے، صوبوں کی تقسیم کو غداری کہنے سے بڑی کوئی غداری نہیں، صوبوں کی تقسیم کا تقاضا تو آئينِ پاکستان کرتا ہے، آئین میں طریقۂ کار بتایا گیا ہے، اب وہ قابلِ عمل نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھاکہ ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں ترمیم پیش کی تھی، ملک کے موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر ہیں، ایم کیو ایم آبادی کے مطابق انتظامی یونٹس کا مطالبہ کرتی ہے۔

 متحدہ کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کی جدوجہد اب رنگ لارہی ہے، نئے انتظامی یونٹس اور مقامی خود مختاری ناگزیر ہے، اتفاقِ رائے کیلئے کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان کی آبادی 25 کڑور ہے، کیا اتنی بڑی آبادی کا نظام چار صوبوں پر چلایا جاسکتا ہے؟ اس کے علاوہ ملک بھر میں خودمختار مقامی حکومتوں کا نظام بھی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ جب بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی بات ہوگی تو پورے ملک کیلئے ہوگی۔

ان کہنا تھا کہ آئین قرآن میں لکھی ہوئی کسی آیت کا نام نہیں ہے جو تبدیل نہ ہوسکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے