اسلام آباد: ہائیکورٹس میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے معاملے میں صدر مملکت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کی بھیجی گئی سمری کی منظوری یا اعتراض لگا کر سمری واپس نہ بھیجنے کے سبب نیا بحران سر اٹھا رہا ہے۔
سپریم کورٹ ماضی میں ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی نامزدگی کو مسترد کرنے کا صدر مملکت کو اختیار حاصل نہیں ہے تاہم آرٹیکل 175 اے 8 میں یہ بھی نہیں لکھا ہوا کہ صدر مملکت کتنے گھنٹوں یا دنوں میں سمری کی منظوری دینے کے پابند ہونگے۔
جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 ،لاہور ہائی کورٹ میں 10،سندھ ہائی کورٹ میں 3اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی تھی۔
پشاور ہائی کورٹ میں چار ایڈیشنل ججز کی کنفرمیشن اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج جسٹس خالد حسین شاہانی کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی سفارش کی گئی تھی۔
پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز کی تقرری کی مدت 4اگست کو مکمل ہونے جا رہی ہے۔ جسٹس خالد حسین شاہانی کی بطور ایڈیشنل جج مدت گزشتہ ماہ 28 جولائی کو مکمل ہوچکی۔
