امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی ویزا درخواست مسترد کر دی ہے۔امریکی اور فلسطینی حکام نے یہ بات ’’دی ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کو بتائی۔ذرائع کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عباس کو امریکی ویزا نہیں ملا۔محمود عباس اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔
ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق محمود عباس کے دفتر کو بدھ کے روز فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ان کے ساتھ سفر کرنے کے خواہش مند دیگر فلسطینی عہدیداروں کی درخواستیں بھی مسترد ہوئیں۔ایک اور فلسطینی عہدیدار نے امریکی محکمہ خارجہ کا نوٹس شیئر کیا۔نوٹس میں ویزا مسترد کرنے کی وجہ ’’سیکشن 212(a)(3)(B)‘‘ بتائی گئی۔اس امریکی قانون کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں یا دہشت گرد تنظیم سے وابستگی سے متعلق مخصوص بنیادوں پر ویزا روکا جا سکتا ہے۔تاہم، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ محمود عباس کی درخواست بھی اسی بنیاد پر مسترد ہوئی یا نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو پابندی کی وضاحت بھی کی۔محکمہ خارجہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے امریکی قانون سازی کی خلاف ورزی کی ہے۔امریکی قانون کے تحت فلسطینی قیادت پر بعض اقدامات کی صورت میں پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ان میں بین الاقوامی اداروں میں اسرائیل کو ہدف بنانا شامل ہے۔فلسطینی ریاست کی یکطرفہ تسلیم شدگی کی کوشش بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔
محکمہ خارجہ نے دہشت گردوں کو وظائف دینے اور تشدد کو فروغ دینے کا بھی ذکر کیا۔امریکی بیان کے مطابق واشنگٹن فلسطینی حکام پر ویزا پابندیاں برقرار رکھے گا۔محکمہ خارجہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے امریکہ سے کیے گئے وعدوں کے مطابق اصلاحات نہیں کیں۔بیان میں کہا گیا کہ بعض جاری سرگرمیاں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
امریکہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن کے لیے موجود استثنیٰ برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا۔اس استثنیٰ کے تحت مشن کے ارکان نیویارک میں اپنے امور جاری رکھ سکتے ہیں۔
ایک مغربی سفارت کار کے مطابق فلسطینی مشن نے اقوام متحدہ میں قرارداد جمع کرائی ہے۔قرارداد میں محمود عباس کو گزشتہ سال کی طرح ورچوئل خطاب کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔یہ قرارداد جمعرات کو جنرل اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔محمود عباس کا خطاب 24 ستمبر کو شیڈول ہے۔اسی روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
