سوات: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ دوبارہ دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں، امن ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ امن ہماری اولین ترجیح ہے، عوام کو پولیس کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ سال 2026 امن کا سال قرار دیا تو دہشت گردوں کو چھوڑا جا رہا ہے۔ آج سوات متاثر ہے، کل بونیر بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں مزید دہشت گردی برداشت نہیں کریں گے۔ وعدہ کرتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں امن بحال کر کے دکھائیں گے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فارم 47 کی حکومت ہے، اسے گورننس کا اختیار حاصل نہیں۔ جن کا کام سیاست نہیں، وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید سخت پالیسی اپنانا ہوگی۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ پولیس کو مزید مضبوط کریں گے، فورس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ امن کے قیام میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا بنیادی کردار ہے۔ بند کمروں میں فیصلے ہوں گے تو عوام میں ردعمل اور بغاوت جنم لے گی۔
