بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ رواں سال دسمبر میں ہر صورت اپنے وطن واپس جائیں گی، چاہے انہیں گرفتاری یا دیگر سنگین نتائج کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
رائٹرز کے مطابق شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اپنی واپسی کی حتمی تاریخ سے آگاہ کریں گی۔
انہوں نے کہا "میں اپنے لوگوں کے پاس واپس آؤں گی۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھے جیل بھیجا جا سکتا ہے یا میری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے واپس جانا ہے۔”
یہ تقریب 2024 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دوسری برسی کے موقع پر منعقد ہوئی۔ یہ ان کا اقتدار چھوڑنے کے بعد پہلا باضابطہ میڈیا خطاب تھا۔
اگرچہ توقع تھی کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی، تاہم انہوں نے صرف آڈیو پیغام دیا، جبکہ عوامی لیگ کے دیگر رہنما اور ان کے صاحبزادے ویڈیو کے ذریعے شریک ہوئے۔
78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا کہ ان کے خلاف قائم مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے خلاف عدالتی کارروائیاں سیاسی انتقام کا حصہ ہیں۔
سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق:
- معاشی ترقی کی رفتار کم ہو گئی ہے۔
- سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی ہے۔
- روزگار کے مواقع محدود ہوئے ہیں۔
- لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے دوران حاصل ہونے والی معاشی کامیابیاں ضائع کی جا رہی ہیں۔
ادھر شیخ حسینہ کے خطاب کے دوران دارالحکومت ڈھاکا میں مظاہرین نے ان کا پتلا نذرِ آتش کیا۔
موجودہ حکومت نے اس سے قبل مقامی میڈیا کو ہدایت کی تھی کہ وہ شیخ حسینہ کے بیانات نشر یا شائع نہ کرے، کیونکہ عدالتی حکم کے تحت ان کی تقاریر کی اشاعت پر پابندی عائد ہے۔
