اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے 15 نکاتی غزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج کے انخلا سے انکار کردیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس میں اسرائیل کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی حماس کے مکمل تخفیفِ اسلحہ سے مشروط ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر کہا کہ اسرائیل نے 15 نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشنوں سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کی تخفیفِ اسلحہ کی تشریح بھی سخت الفاظ میں کی۔
ان کے مطابق صرف بھاری ہتھیاروں کا خاتمہ کافی نہیں ہوگا۔ حماس کے تمام ہتھیار واپس لیے جانے چاہئیں۔
نیتن یاہو نے اس عمل کو حقیقی تخفیفِ اسلحہ قرار دیتے ہوئے کسی علامتی یا نام نہاد اقدام کو مسترد کردیا۔
ٹرمپ اور بورڈ آف پیس کے منصوبے کے تحت غزہ کو مرحلہ وار جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔
اس کے ساتھ اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبے کے تحت غزہ میں نئی فلسطینی پولیس فورس تشکیل دینے اور بین الاقوامی نگرانی میں علاقے کی تعمیر نو شروع کرنے کی بھی بات کی گئی ہے۔
