ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر وفاق اور وزارت قانون سے کل تک تحریری رپورٹ طلب

نئے ججز کی تعیناتی کی سمری منظوری میں تاخیر کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر مملکت، وزیراعظم اور وزارت قانون کو نوٹس جاری کرکے ایک روز میں جواب طلب کرلیا۔

عدالت عالیہ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ سمری کس اسٹیج پر رکی ہوئی ہے؟ کل تک جواب دیں، اس طرح سمری رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا ، ہم نے سوچا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا حکومت کیا کر رہی ہے؟ لگتا ہے وفاقی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں اس معاملے میں کیا ہورہا ہے؟ اعلی عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟ سمری کس اسٹیج پر ہے ؟ کیا آپ کو کچھ معلوم بھی ہے؟

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن تھی۔ جوڈیشل کمیشن نے منظوری دی تھی لیکن وہ بھی رک چکی۔ اس طرح سمری رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا ۔ اب  18 دن گزر چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین بہت واضح ہے کہ جب وقت گزر جائے تو کیا ہو گا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے بتایا کہ صدر اب تو سمری مسترد بھی نہیں کر سکتے۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

آج کی سماعت تحریری حکمنامہ

عالت عالیہ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے آج کی سماعت تحریری حکم جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق اور وزارت قانون سے کل تک تحریری رپورٹ طلب کرلی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو بھی عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کردیا گیا، عدالت نے ہدایت کی کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل یقینی بنائیں کہ وفاق اور وزارت قانون مختصر رپورٹس جمع کروائیں۔

حکمنامہ کے مطابق رپورٹ میں بتائیں کہ کس تاریخ کو وزیراعظم نے صدر مملکت کو سمری ارسال کی، سمری پر اُس کے بعد اگر کوئی کارروائی کی گئی تو اُس کی بھی وضاحت کی جائے، ججز تقرری کی سمری غیرمعینہ مدت تک زیرالتواء رہنے کے نتائج کیا ہوں گے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کل دوبارہ ہو گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے