عدالت نے کہا کہ عورت کا خلع کا حق استعمال کرنا آئینی ہے،اُس پرتشدد کرنا آئین پر حملہ ہے۔3 رکنی بینچ نے مجرم وسیم عباس کی جیل پٹیشن خارج کرتے ہوئے سزائے موت کو برقرار رکھاہے ۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کا تحریر کردہ 4 صفحات کا فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے میں کہا گیاہے کہ خلع مانگنےوالی عورت پر تشدد کرنے والوں کیساتھ قانون پوری سختی سے نمٹے گا، آئین کا آرٹیکل 9، 14 اور 25 عورت کو تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، قانونی حق مانگنے پر عورت کا قتل کرنا قانون کیساتھ کھلی بغاوت اور سفاکی ہے، ایسے سرد مہری اور منصوبہ بند قتل میں ملوث مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔
فیصلے کے مطابق گھریلو حدود کےاندر ہوئےجرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو رد نہیں کیا جاسکتا، موقع سے ملنے والے خول اور پستول کا فرانزک میچ جرم کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے، ماتحت عدالتوں کےفیصلے میں کوئی نقص نہیں، سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہےگا۔
یاد رہے کہ وسیم عباس نے 11 اکتوبر 2020 کو سابقہ بیوی شہناز بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا ، خاتون نےفیملی کورٹ سے خلع کی قانونی ڈگری حاصل کی تھی،48 گھنٹے بعدہی قتل کردی گئی، طلاق کی رنجش پر ملزم نے گھر میں داخل ہوکر 6 گولیاں مار کر سابقہ بیوی کو قتل کیا۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی ملزم کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔
