پاکستان تین سال تک مشترکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کی سربراہی کرے گا

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس کی ابتدائی تین سالہ سربراہی پاکستان کو ملے گی۔ترک اور عالمی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی تعاون کو مزید مربوط کریں گے۔

سیکرٹریٹ تینوں ممالک کے درمیان رابطے کا مرکزی ادارہ ہوگا۔ یہ مشترکہ فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی بھی کرے گا۔ابتدائی تین سال پاکستان سیکریٹریٹ کی سربراہی کرے گا۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری سعودی عرب کو منتقل ہوگی۔تیسرے مرحلے میں ترکیہ سیکریٹریٹ کی قیادت سنبھالے گا۔اس نظام کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو منظم رکھنا ہے۔

معاہدے کی بنیاد اجتماعی سلامتی کے اصول پر رکھی گئی ہے۔کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔تاہم اس کا مطلب فوری یا خودکار فوجی کارروائی نہیں ہوگا۔ہر واقعے کا الگ جائزہ لیا جائے گا۔ ردعمل متاثرہ ملک کی درخواست اور صورتحال کے مطابق طے ہوگا۔

فیصلہ سازی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کونسل تشکیل دی جائے گی۔ اس کونسل میں وزرائے خارجہ شامل ہوں گے۔ وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ کونسل کے سال میں دو اجلاس ہونے کی توقع ہے۔ یہ فورم تینوں ممالک کے درمیان اہم دفاعی فیصلوں کے لیے استعمال ہوگا۔

معاہدے کا اجتماعی دفاعی ڈھانچہ نیٹو سے مماثلت رکھتا ہے۔ تاہم دونوں نظاموں میں ایک اہم فرق موجود ہے۔ اس معاہدے میں فوجی ردعمل خودکار نہیں ہوگا۔ ہر معاملے میں حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ممکنہ تعاون انٹیلی جنس شیئرنگ تک محدود نہیں ہوگا۔ اس میں رسد اور فوجی معاونت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ضرورت پڑنے پر براہِ راست فوجی تعاون بھی زیرِ غور آ سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے