ایران کے معاملے پر اختلاف، ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر جنوبی کوریا کے تعاون سے انکار پر ناراضی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نمایاں طور پر کم کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

ٹرمپ نے یہ اعلان سالانہ الچی فریڈم شیلڈ فوجی مشقوں کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کیا۔ یہ مشقیں 17 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوشش میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھا تھا۔

امریکی صدر کے مطابق جنوبی کوریا نے اس پیشکش کا جواب ان الفاظ میں دیا کہ ’’نہیں، شکریہ‘‘۔

ٹرمپ نے اسی معاملے کو جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں کمی کی وجوہات میں شامل کیا۔ تاہم انہوں نے مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کے لیے بہت دیر ہو جانے کی بات بھی کہی۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ ان مشقوں سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشقیں امریکا کے لیے مہنگی ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مشقیں شمالی کوریا کو نامناسب اور جارحانہ پیغام دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو اپنی موجودہ صدارت کے دوران امریکا کے لیے خطرہ بھی نہیں قرار دیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے