مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب اسرائیلی آبادکاروں نے ایک فلسطینی خاندان کے گھر کو تین گھنٹے سے زائد گھیرے میں رکھا۔ واقعہ قصرہ گاؤں میں پیش آیا، جہاں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کے گھروں کے محاصرے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق آبادکاروں نے اتوار کی شام محمد ثابت ماجد حسون کے گھر کو گھیر لیا۔ اس وقت گھر میں خاندان کے 9 افراد موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق محاصرے کے باعث خاندان کے افراد کئی گھنٹے گھر سے باہر نہیں نکل سکے۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے گھر میں موجود تمام 9 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے گھر میں کارروائی بھی کی۔ فوجی اہلکاروں نے روانگی سے قبل گھر کے قیمتی سامان کو نقصان پہنچایا۔ اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تمام تفصیلات کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ گاؤں میں مزید تین فلسطینی خاندان بھی محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق آبادکاروں نے ان خاندانوں کے گھروں تک رسائی روک دی تھی۔ بعض علاقوں میں پانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ اسرائیلی فوج نے بعد میں قصرہ میں اپنی موجودگی بڑھائی اور آبادکاروں کو ہٹانے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ نے بھی قصرہ کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس کے مطابق بعض فلسطینی خاندان پانی اور بجلی کے بغیر اپنے گھروں میں پھنسے رہے۔
