جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق فیصلہ آیا ہے، یہ بہت پہلے آجانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کا فیصلہ پی ٹی آئی کا اپنا ہے جاری رکھتے ہیں یا ختم کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ وسائل نہ ہوں، جیب خالی ہو تو آپ گھر نہیں بناسکتے، ہم اصولی طور پر یونٹس اور صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، ہم نے فاٹا، ہزارہ اور دیگر صوبوں کو بنانے کی حمایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانےکےلیے صوبےکا ایشو پھینکا گیا ہے، اس وقت نئے صوبے بنانےکا ماحول ہے اور نہ ہی وقت، ملک میں آگ لگی ہو اوربھائی اس میں لگیں کہ گھرکوکیسے تقسیم کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر کو تجویز کرتا ہوں ملکی معاملات پر آل پارٹیز کانفرنس بلالیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلامی بلاک کا قیام ہمارے منشور کا حصہ ہے ہم اسے سپورٹ کریں گے، یہ حکمران یہاں اتحادی ہیں اورکشمیر میں ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں، ایک دوسرے پر الزام لگا کر بعید نہیں کہ کشمیر میں بھی اتحاد پر راضی ہوجائیں، کشمیری عوام کا ایک طرف ووٹ لے رہے ہیں اور نتیجے بنائے جارہے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو اگلی سماعت تک شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجائے، بانی پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کیاجائے، اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
