شامی حکام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور کے نو پائلٹ گرفتار کرلیے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں تین جنرل بھی شامل ہیں۔ ان پر خانہ جنگی کے دوران شہری علاقوں پر بمباری کا الزام ہے۔ شامی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں کئی قصبوں اور دیہات میں ہوئیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق گرفتاریاں لاذقیہ میں ہوئیں۔ یہ کارروائیاں شام کے مغربی علاقے میں کی گئیں۔ داخلی سکیورٹی فورسز نے نو سابق فوجی پائلٹوں کو حراست میں لیا۔ سانا کے مطابق ان افراد پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرائم کئی علاقوں میں کیے گئے۔
سانا کے مطابق گرفتار افراد میں جنرل مینہل انور صالح شامل ہیں۔ جنرل سمیع ابراہیم محمود بھی گرفتار افراد میں شامل ہیں۔ جنرل غیاث علی ریحی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ شامی حکام نے ان افراد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کے مطابق بمباری سے جانی اور مالی نقصان ہوا۔ حکام نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا بھی ذکر کیا ہے۔
