غزہ پر دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں 25 منٹ تک تالیاں

غزہ جنگ پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں بھرپور پذیرائی ملی۔ فلم کی نمائش کے بعد شائقین نے 25 منٹ تک تالیاں بجائیں۔ فلم اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل سزور نے تیار کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ وینس فلم فیسٹیول میں ایک نیا ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال غزہ سے متعلق ایک فلم کو 23 منٹ تک تالیاں ملی تھیں۔

فلم سازوں نے ’نازا‘ میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے انٹرویوز شامل کیے ہیں۔ ان افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ فلم میں ان کی آوازیں اور چہرے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے تبدیل کیے گئے ہیں۔ یووال ابراہم کے مطابق مقصد فوجیوں سے براہ راست معلومات حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غزہ میں مبینہ قتل کے نظام کو سمجھنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق فلم میں اہلکاروں سے کارروائیوں کی تفصیلات بیان کرنے کو کہا گیا۔

80 منٹ کی اس فلم میں کئی اہم دعوے پیش کیے گئے ہیں۔ فلم میں شامل افراد نے غزہ کی فوجی کارروائیوں پر اپنے تجربات بیان کیے۔ ان میں بعض نے صورتحال کو ’قتل کی فیکٹری‘ سے تشبیہ دی۔ ایک انٹرویو دینے والے نے اسے ’مہلک ویڈیو گیم‘ جیسا قرار دیا۔ فلم کا عنوان ’نازا‘ اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایک اصطلاح سے لیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کے بارے میں فلم میں شہری ہلاکتوں کے تخمینے کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے