پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ کرلیا

تحریک انصاف کے 27 ستمبر احتجاج کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ کرلیا ہے۔

تمام صوبوں سمیت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل مکمل ہوگئے۔ سرکاری وسائل استعمال ہوں گے نہ سرکاری مشینری، خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی نے عدالت میں اپنے بیانِ حلفی بھی جمع کرادیے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نویدحیات ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس لانگ مارچ کے ابھی تک دو مقاصد ہی سامنے آتے ہیں ۔ ایک مقصد سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت گرانا اور یہ دونوں ہی غیرقانونی ہیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کی درخواست پر کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی کے دوہزار بیس اور دوہزار چوبیس میں ہونیوالے احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ کی فوٹیجز بھی چلائی گئئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا یہ پورے وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتے ہیں اور ہم میں انھیں روکنے کی صلاحیت نہیں ۔ ہم تو صرف انتظامات ہی کرسکتے ہیں کہ دفعہ 144 لگادیں ۔ ہم اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلاسکتے ۔ اُن کی جانیں نہیں لے سکتے ۔ کہا اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے ۔ پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر آپ وزیراعظم سے ناخوش ہیں تو جائیں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک لائیں، اگر چوک چوراہوں پر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو پھر رول آف لاء کی بات نہ کریں، عدالتوں میں مقدمات پہلے سے زیادہ دائر ہورہے ہیں مطلب عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے