وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتوگوتریس کی لیڈر شپ میں غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کو سراہتے ہیں،پاکستان نے واشنگٹن اور ایران کے درمیان ثالثی کرانے میں اہم کردار ادا کیا ، پاکستان نے امریکا اور ایران میں ایک چھت کے تلے بیٹھایا۔
شہبازشریف کا کہناتھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب خطے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں،بدقسمتی سے رواں سال مشرق وسطیٰ خطرناک جنگ کی لپیٹ میں آیا ، جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ، فیلڈ مارشل کی کوششوں نے سفارتکاری کی گنجائش پیدا کی،آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، سفارتکاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔
سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ملک کی امن کوششوں پر ممنون ہوں، افسوسناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے،میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے، عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہئے۔
سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حرمین شریفین ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے، تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، دفاعی معاہدہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لئے ہمارا اجتماعی عزم ہے۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں بھارت کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پراستعمال نہیں کیا جانا چاہیے،بھارت اب کوئی غلطی نہ کرے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،کشمیریوں کے حق خود اردیت کے وعدے پورے کئے جائیں ۔
شہبازشریف نے فلسطین کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں،غزہ میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے،آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، فلسطینی نسلوں سے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔
