کے پی میں ارکان کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت لازمی قرار

خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئی جی پولیس کو ارکان اسمبلی کی گرفتاری یاتحویل سے متعلق طریقہ کار کےلیےمراسلہ ارسال کردیا،مراسلےمیں کسی رکن صوبائی اسمبلی کو گرفتار یا تحویل میں لینے سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوااسمبلی سیکریٹریٹ کا آئی جی پولیس کوبھجوائے گئےمراسلہ میں اسمبلی پاورز،امیونٹیز اینڈ پریولیجز ایکٹ کےتحت عملدرآمدکی ہدایت کی گئی ہے،جس کےمطابق ایگزیکٹوآرڈرکےتحت ایم پی اے کو حراست میں لینےسےقبل بھی اسپیکرسےاجازت لیناہوگی۔

مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی بھی گرفتاری کی وجوہات بتا کر اسپیکر سے اجازت حاصل کرےگی،کسی بھی  رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری، اہم پی اے کی حراست کیلئے مقررہ فارم کے ذریعے اسپیکرکو درخواست  دی جائےگی۔

اسی طرح اسپیکرعوامی مفادمیں متعلقہ پولیس افسرسےپولیس رپورٹ یاچالان طلب کرسکتےہیں جبکہ اسپیکر عدالت میں چالان جمع کرانےسےقبل معاملےکی انکوائری بھی کراسکتےہیں۔

وزیرداخلہ محسن نقوی کا خط پر ردعمل

وزیرداخلہ محسن نقوی نے کے پی اسمبلی سیکریٹریٹ کا خط شیئر کرتے ہوئےکہا کہ اب خیبرپختونخوا میں کسی رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر کی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے،چاہے اس رکن پرکسی مجرمانہ فعل کا الزام ہی کیوں نہ ہو۔

وزیر داخلہ نےسوال اٹھایا کہ اگر کوئی ایم پی اےکسی کوقتل کردے تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا پولیس قاتل کو گرفتارکرنے کے لیے پہلے اسپیکر کی اجازت کاانتظار کرےگی؟،قانون کی نظر میں مساوات کی کیاہی انوکھی تشریح کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنی پوسٹ کے اختتام پرطنزیہ انداز میں کہا،بہت خوب،اسی طرح جاری رکھیں! اور کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے