پاکستان، برطانیہ کا آئندہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں عملی نتائج کے حصول پر اتفاق

ملاقات میں سیکرٹری تجارت جواد پال اور وزارت تجارت کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے، جس میں پاکستان اور برطانیہ نے آئندہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں عملی نتائج کے حصول پر زور دیا، جبکہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی سرمایہ کاری شراکت داری کے فریم ورک پر بھی بات چیت کی گئی۔

دونوں جانب سے صحت، آئی ٹی، زراعت، لائیو سٹاک، مالیاتی خدمات، ہوا بازی اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جام کمال خان نے لائیو سٹاک کے شعبے میں برطانوی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور گوشت کی برآمدات میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کے لیے عالمی فوڈ سیفٹی اور ریگولیٹری معیارات کی پاسداری انتہائی اہم ہے، اجلاس میں پاکستانی مصنوعات کی عالمی برانڈنگ اور بیرون ملک منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پنک سالٹ، زیتون کے تیل، فوڈ مصنوعات، ٹیکسٹائل اور سرجیکل آلات کی عالمی مارکیٹنگ کے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا، شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کو اپنے برانڈز متعارف کرا کے عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی زیادہ قدر حاصل کرنی چاہیے، پاکستانی فوڈ اور ریسٹورنٹ برانڈز کی برطانیہ میں توسیع کے امکانات بھی زیر غور آئے۔

ملاقات میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے ایئربس اور رولز رائس سے ممکنہ طیاروں اور انجنوں کے انتظامات پر بھی بات چیت کی گئی، پی آئی اے کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے طیاروں کی لیزنگ جبکہ طویل المدتی بنیادوں پر فلیٹ کو جدید بنانے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

جام کمال خان نے کہا کہ پی آئی اے کی براہ راست بین الاقوامی پروازیں ایک اہم تجارتی اثاثہ ہیں، مسافروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پی آئی اے کی سروس، قابلِ اعتماد آپریشن اور فلیٹ کو جدید بنانا ضروری ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان میں معاشی، ریگولیٹری اور ٹیکس اصلاحات کو سراہا، اس موقع پر جام کمال خان نے کہا کہ ٹیرف ریشنلائزیشن سے مسابقت، خام مال تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں بہتری آئے گی۔

ملاقات میں اسلامی مالیات کے شعبے میں تعاون اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ مالی روابط بڑھانے پر بھی غور کیا گیا، معدنیات کے شعبے میں تکنیکی مہارت، پیشہ ورانہ ایکسپلوریشن اور مشترکہ منصوبوں کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ برطانوی کمپنیوں کی پاکستان کی مجوزہ منرلز کانفرنس میں شرکت کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔

فریقین نے پاکستان کی 80ویں سالگرہ، جو 2027 میں منائی جائے گی، کو تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی تعاون کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے