امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے کویت میں امریکی فوجی اڈے سے متعلق اہم تفصیلات سامنے لائی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکی فوج نے کیمپ بیورنگ سے بڑی تعداد میں اہلکار منتقل کیے۔کیمپ بیورنگ کو امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں ایک اہم فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں کیمپ بیورنگ کو شدید ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔نئی حاصل کردہ ویڈیوز میں میزائل اور ڈرون حملوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیوز میں عمارتوں اور فوجی سازوسامان کو پہنچنے والا نقصان بھی نظر آتا ہے۔امریکی فوجیوں کے مطابق ایرانی حملوں نے اڈے پر دباؤ میں اضافہ کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے بار بار اڈے کو نشانہ بنایا۔امریکی فوجیوں کو کئی مواقع پر بنکرز میں پناہ لینا پڑی۔تین امریکی فوجیوں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایرانی ایف-5 جنگی طیارے بھی حملوں میں استعمال ہوئے۔تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر الگ سے تصدیق نہیں کی گئی۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق اڈے کا دفاع کرنے والے فوجیوں کے پاس .50 کیلیبر گولہ بارود کی شدید کمی ہوگئی تھی۔پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں سمیت دیگر اہم جنگی سامان کی دستیابی بھی تشویش کا باعث بنی۔
ایک سینئر امریکی فوجی اہلکار نے رسد سے متعلق مسائل کی تصدیق کی۔اس صورتحال میں اڈے پر موجود فوجیوں کے لیے وہاں رہنا مزید مشکل ہوگیا۔
کیمپ بیورنگ سے زیادہ تر امریکی فوجی پہلے ہی دوسری جگہ منتقل کیے جا چکے تھے۔تاہم، 100 سے زائد اہلکار اڈے پر موجود رہے۔
بعد میں ان فوجیوں نے اپنے ضروری سازوسامان جمع کیا اور کویتی صحرا کی جانب منتقل ہوگئے۔وہاں انہوں نے عارضی فوجی ٹھکانے قائم کیے۔ ان ٹھکانوں کو Forward Operating Bases یعنی FOBs کہا جاتا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق فوجی قیادت نے بالآخر کیمپ بیورنگ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔اہلکار رات کے وقت گاڑیوں کے ذریعے صحرائی علاقوں میں منتقل ہوئے۔ان عارضی ٹھکانوں پر فوجی کچھ عرصے تک موجود رہے۔مئی میں انہیں کیمپ عارفجان منتقل کیا گیا۔ بعد میں انہیں مشرق وسطیٰ کے دیگر مقامات پر بھی منتقل کیا گیا۔
کیمپ بیورنگ اور بعد میں قائم کیے گئے صحرائی ٹھکانوں پر دشمن کی فائرنگ سے کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔تاہم، دو فوجی بعد میں صحرائی علاقے میں آسمانی بجلی کی زد میں آئے۔ایک فوجی جھلس گیا جبکہ دوسرے کے کان کا پردہ متاثر ہوا۔امریکی حکام کے مطابق دونوں واقعات اپریل کے آخر میں پیش آئے۔
