وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پیپر لیک کی بنیاد پر برطرف 123 امیدواروں کو نوکریوں پر بحال کردیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ہمارے موکلان پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے اپنے محکموں میں ملازمت کر رہے تھے اور 4 ماہ کی تنخواہ بھی لے چکے تھے کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے پیپر لیک کی سورس رپورٹ سامنے آنے پر امیدواروں کی تعیناتی کی سفارشات واپس لے لیں۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ لیک شدہ پیپر امیدواروں کے امتحان پاس کرنے اور پبلک سروس کمیشن کی سفارشات جاری ہونے کے بعد ریکور ہوئے۔ امیدواروں کو ہٹانے سے قبل کسی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا نہ ہی سنا گیا۔ عدالت نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے امیدواروں کی درخواستیں منظور کرلیں۔
