سعودی دارالحکومت ریاض میں اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی سفارتی اجلاس منعقد ہوا جس میں مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک کے سفارتکاروں نے شام کے بعد از جنگ مستقبل، امن کے قیام، اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر غور کیا۔ اجلاس نے شام کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
بین الاقوامی شرکت
اجلاس میں مختلف خطوں سے اعلیٰ سفارتکاروں نے شرکت کی:
- سعودی عرب: وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان۔
- شام: عبوری وزیر خارجہ اسعد الشیبانی۔
- ترکیہ: وزیر خارجہ خاقان فیضان۔
- برطانیہ: وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی۔
- جرمنی: وزیر خارجہ اینا لینا بیئربوک۔
- امریکہ: نائب وزیر خارجہ جان باس۔
- یورپی یونین: اعلیٰ سفارتکار کاجاکالاس۔
- اقوام متحدہ: شام کے لیے نمائندہ گیر پیڈرسن۔
اہم مباحثے اور فیصلے
- پابندیوں کے خاتمے پر اختلافات:
- یورپی ممالک نے بشار الاسد حکومت کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پابندیاں برقرار رکھنے کی حمایت کی۔
- جرمنی کی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں موجودہ حکومت کے جرائم کی وجہ سے پابندیاں ضروری ہیں۔
- یورپی یونین نے اشارہ دیا کہ اگر حکومت میں تمام طبقات کو نمائندگی دی گئی تو پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکتی ہے۔
- سعودی عرب کی انسانی ہمدردی کی اپیل:
- سعودی وزیر خارجہ نے شام کے عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔
- حالیہ امدادی اقدامات، بشمول خوراک اور ادویات کی فراہمی، کو اجاگر کیا گیا۔
- جامع حکمت عملی کی ضرورت:
- اجلاس نے اتفاق کیا کہ شام میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو شامل کرنے والی جامع حکمت عملی ضروری ہے۔
- اقوام متحدہ کے نمائندے گیر پیڈرسن نے عالمی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
شرکاء نے شام کی بحالی کے لیے عملی اقدامات اور عالمی تعاون کو اہم قرار دیا۔ سعودی عرب کی میزبانی میں یہ اجلاس خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔