پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، تاہم آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ وفاقی بجٹ میں اس اہم چیلنج سے نمٹنے کیلئے صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق کلائمیٹ چینج ڈویژن نے نئے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ پیش نہیں کیا، جبکہ مجوزہ فنڈز پہلے سے جاری تین منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
دستاویزات کے مطابق 123 ارب 51 کروڑ روپے لاگت کے ان تین جاری منصوبوں پر 30 جون 2026 تک صرف 35 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے بھی انہی منصوبوں پر 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
مجوزہ بجٹ کے تحت 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپے گرین پاکستان پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ تقریباً 29 کروڑ روپے وزارت کی تکنیکی استعداد کار بڑھانے کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت گرین اسکلز منصوبے کیلئے صرف 16 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو مون سون میں غیر معمولی بارشوں، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات، شدید گرمی کی لہروں، جنگلات میں آگ لگنے اور جانی و مالی نقصانات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ حکومت نے صوبوں کے تعاون سے مون سون سے نمٹنے کیلئے 245 روزہ منصوبہ بھی تیار کیا تھا اور ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم متعدد اقدامات تاحال تاخیر کا شکار ہیں۔
