فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر آئینی عدالت کی سماعت

0

آئینی عدالت کے سات رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا گزشتہ روز ہمیں قائل کیا گیا کہ فوجی ٹرائل فئیر ٹرائل ہوتا ہے۔۔ 9 مئی اور 26 نومبر واقعات کے ملزمان میں کیا فرق ہے؟

جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟


وکیل خواجہ احمد نے اپنے دلائل میں کہا کہ میں مکمل آرمی ایکٹ کو بالکل چیلنج نہیں کر رہا لیکن عام شہری ملٹری ٹرائل میں نہیں آتے۔۔ جسٹس منیب نے بھی اپنے فیصلے میں اسی دلیل کا حوالہ دیا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں تنازع ہوا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ،ویسا بھی ہو سکتا ہے، گزشتہ روز میں نے مہران بیس اور دیگر چندواقعات کا ذکر کیا تھا۔

جسٹس مسرت نے کہا کہ گزشتہ روز ہمیں قائل کیا گیا کہ فوجی ٹرائل فئیر ٹرائل ہوتا ہے، ان کے استفسار پر وکیل خواجہ احمد نے کہا کہ 26 نومبر والے افراد دہشتگردانہ واقعات میں ملوث تھے۔۔ ان کے ٹرائل کے لیے ترمیم کرنا پڑی تھی۔۔ افواجِ پاکستان کے سول ملازمین پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔

جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟

دوران سماعت وکیل خواجہ احمد نے 9 مئی پر افواج پاکستان کے اعلامیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آرنے 9 مئی واقعے پر 15 مئی کو اعلامیہ جاری کیا۔۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ 9 مئی پر ادارے میں دکھ اور درد پایا جاتا ہے اور اس واقعے کے نا قابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ہمیں اعلامیے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اعلامیے کے بعد ملٹری ٹرائل میں فیئر ٹرائل کیسے مل سکتا ہے؟ عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی ۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.