صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترک صدر رجب طیب ایردوان کے اعزاز میں عشائیہ۔۔۔۔ دونوں رہنماؤں کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔۔۔
ایوانِ صدر آمد پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے ترک صدر کا استقبال کیا
پاکستان اور ترکی کا باہمی مفاد میں تجارت، معیشت، توانائی، دفاع، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا۔۔ ملاقات میں ونوں ممالک کا تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔۔۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا صدر ایردوان کا دورہ پاکستانی عوام کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔ ترک صدر کے دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔۔۔۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول ہے۔۔پاکستان ترک کاروباری اداروں کی جانب سے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ اور معیشت کے اہم شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔۔۔
صدر مملکت کا دونوں ممالک کے بینکاری شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور۔۔۔پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم کو اس کی بھرپور صلاحیت تک بڑھانا ہوگا۔۔
صدر مملکت نے سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ کیلئے پاکستان اور ترکیہ کے مابین فضائی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔۔
ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بالخصوص غزہ اور شام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔۔دونوں صدور کا عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔۔۔
صدر مملکت نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اصولی حمایت پر شکریہ ادا کیا
ترک صدر اردوان کا دوطرفہ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ترکیہ کے عزم کا اعادہ کیا اورکہا ترکیہ کی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔۔
صدر ایردوان نے کہا ترکیہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا خواہاں ہے۔ترک صدر نے پاک-ترکیہ دوستی آئندہ نسلوں کو منتقل کرنے کے لیے عوامی روابط بڑھانے پر زور دیا۔۔
صدر رجب طیب اردوان نے قبرص پر پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت پر صدر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا جموں و کشمیر کا تنازعہ بات چیت کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔۔