حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسی پر پیٹرولیم ڈیلرز ناراض

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی پیٹرولیم مصنوعات کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔۔۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکریٹری خواجہ عاطف نے کہا ڈی ریگولیشن سے ایران سے آئل کی اسمگلنگ بڑھ جائے گی۔۔۔ آئل کمپنیاں مارکیٹ شیئر بڑھانے کے لئے غیر معیاری پیٹرول اور ڈیزل فروخت کریں گی جس سے نہ صرف عوام کی گاڑیوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ پمپ مالکان کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔۔۔

ایسوسی ایشن نے حکومت کے یکطرفہ طور پر اعلان کردہ ریٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بابو لوگ بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں۔

حکومت کو 10 دن کا وقت دیتے ہیں اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے بھی ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا کہہ دیا ہے۔

سارا ڈسکاؤنٹ کمپنیوں کے ملازمین اور میگا ڈیلرز میں تقسیم ہوجاتا یے، ہم تو یہ چاہتے ہیں یہ جنرل پبلک میں تقسیم ہو۔ وزیراعظم سے درخواست ہے ہمارے خطوط کو سنجیدگی سے دیکھیں اور مسائل کو حل کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم سٹیک ہولڈرز ہیں، ملک بھر میں ہمارے 14 سے 15 ہزار پمپس ہیں، حکومتی یکطرفہ فیصلہ قطعاَ منظور نہیں، ہم ملک کے تیسرے بڑے ٹیکس پیئر ہیں۔۔۔

آئل کمپنیوں کو خوش کرنے کے لئے ڈی ریگولیشن پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، سی این جی سیکٹر کو بھی تباہ کیا گیا اگر ڈی ریگولیشن سے مفاد عامہ ہوتی ہے تو ہم حق میں ہیں،

خواجہ عاطف نے کہا مجبور نہ کیا جائے کہ ہم کسی اور طرف جائیں۔ اس ڈی ریگولیشن سے کارٹلائزیشن شروع ہو جائے گی۔۔۔ اس عمل سے کسٹمر کا نقصان ہو گا اور فائدہ چند ہاتھوں میں چلا جائے گا ۔۔ ن

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کچھ کمپنیز کو نوازنا چاہتے ہیں جس کے لئے ڈی ریگولیشن کی جا رہی ہے۔۔ ایرانی پٹرول کو بیچنے کا یہ ان ڈائریکٹ طریقہ ہے۔۔۔ جب بزنس ڈی ریگولیٹ ہو جائے گا تو کیسے کنٹرول ہوگا۔۔۔

کمپنیاں ناقص پٹرول لا کر دیں گی۔۔۔ یورو ٹو پٹرول بھی نہیں ہے ۔۔۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے