برطانیہ، فرانس اور یوکرین نے روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی ایک نئی تجویز پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے یورپی سربراہی اجلاس سے قبل اس سفارتی پیش رفت کا اعلان کیا، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یہ مجوزہ امن منصوبہ یورپی ممالک کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے اور اسے امریکہ کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ اسٹارمر نے کہا: کہ "ہم یوکرین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے امکانات پر گفتگو سے پہلے اسے مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں کشیدگی پیدا ہو چکی ہے، جس کے باعث یورپ میں امریکہ کی پالیسی پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
یورپی فوجی شمولیت اور استحکام کا منصوبہ
لندن میں ہونے والے اجلاس میں جنگ بندی کے نفاذ اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے یورپی فوجی قوت کی ممکنہ تشکیل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹارمر نے اسے "رضامند اتحادیوں کا اتحاد” قرار دیا، جس کا مقصد یوکرین کو دفاعی طور پر مضبوط کرنا اور مستقبل کے تنازعات کو روکنا ہے۔
انہوں نے کامیاب امن منصوبے کے تین بنیادی نکات پیش کیے:
✅ یوکرینی فوج کو مستحکم کرنا تاکہ وہ مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں ہو۔
✅ یورپی سلامتی کی ضمانت تاکہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کو روکا جا سکے۔
✅ روس کو خلاف ورزی سے روکنے کے لیے امریکی عزم تاکہ دوبارہ جنگ نہ چھڑ سکے۔
اسٹارمر نے خبردار کیا: کہ "بدترین ممکنہ نتیجہ ایک عارضی جنگ بندی ہوگی، جس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے ایک نئی جارحیت کا سامنا ہوگا۔ ہمیں اس سے ہر حال میں بچنا ہوگا۔”
یورپی اتحاد اور یوکرین کے لیے حمایت
لندن سربراہی اجلاس میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، پولینڈ، کینیڈا، نیٹو اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد یوکرین کے لیے یورپی حمایت کو مزید مستحکم کرنا تھا، خاص طور پر ٹرمپ کی ممکنہ غیر جانبدارانہ پالیسی کے پیش نظر۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی ممالک کو دفاعی بجٹ بڑھانے پر زور دیا، جبکہ چیک وزیر اعظم پیٹر فیالا نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔جبکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، یورپی رہنماؤں نے 207 بلین ڈالر کے منجمد روسی اثاثوں کو ممکنہ طور پر یوکرین کی مالی مدد کے لیے استعمال کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا ہے، تاکہ اگر سفارت کاری ناکام ہو جائے تو جنگی کوششوں کو جاری رکھا جا سکے۔
آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ آیا یہ مجوزہ جنگ بندی منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکتا ہے یا نہیں۔ یورپی ممالک کی سفارتی حکمت عملی کا مقصد نہ صرف یوکرین کی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے بلکہ روس کے کسی بھی نئے جارحانہ اقدام کو روکنا بھی ہے۔
