اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری امدادی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ دشمنی کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
گوٹیرس کا ہنگامی بیان
سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں گوٹیرس نے کہا کہ "سیکریٹری جنرل تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ غزہ میں دشمنی کی واپسی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ وہ فوری طور پر غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور تمام مغویوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
اسرائیل کی جانب سے امداد کی معطلی
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل روک دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اقوام متحدہ سمیت متعدد امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں خوراک، طبی سامان اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے، جو پہلے سے تباہ حال عام شہریوں کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سفارتی کوششیں
اقوام متحدہ غزہ میں استحکام بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ انسانی امداد کو کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری رکاوٹ کے بغیر متاثرہ آبادی تک پہنچنے دیا جائے۔
گوٹیرس نے واضح کیا کہ انسانی امداد کی فوری فراہمی بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔
