آئی ایم ایف کےایف بی آر سے تکنیکی مذاکرات شروع،رئیل اسٹیٹ میں ٹیکس چوری روکنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کی پہلی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لینے پاکستان پہنچ گیا۔ مذاکرات کی کامیابی سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے ایک ارب ڈالر امداد کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ مذاکرات 15 مارچ تک جاری رہیں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کا آغاز،،،، سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں حکومتی وفد کی آئی ایم ایف حکام سے ملاقات،،،،آئی ایم ایف کاریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کا مطالبہ

ذرائع کے مطا بق پالیسی لیول مذاکرات میں آئی ایم ایف وفد کی قیادت ناتھن پورٹر جب کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کریں گے۔ پہلے مرحلے میں تکنیکی اور دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح کی بات چیت ہو گی، آئی ایم ایف وفد آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے تجاویز بھی دے گا۔ اس دوران وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اداروں سے بھی مذاکرات ہوں گے۔ وفد حکومت پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے بھی الگ ،الگ مذاکرات کرے گا۔ آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ، ایف بی آر، پاور ڈویژن اور اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ مذاکرات کرے گا ۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے جائیداد کی غلط مالیت ظاہر کر کے ٹیکس چوری کیخلاف اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ہے، اس ضمن میں حکومت کی ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرے گی، اتھارٹی غلط مالیت اور معلومات ظاہر کرنے پر جرمانہ اور ایجنٹ کا لائسنس منسوخ کرسکے گی، غلط معلومات فراہم کرنے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان 7 ارب ڈالرز قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد اور پہلی ششماہی سے متعلق رپورٹ بھی آئی ایم ایف وفد کو پیش کرے گا۔ مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف وفد پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر جاری کرنے سے متعلق اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے