ایران امریکی صدر کے دھوکے میں نہیں آئےگا:خامنائی

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کا امریکی صدر ٹرمپ کے خط پر ردعمل۔۔۔۔تہران امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کے جھانسے میں نہیں آئے گا۔۔۔ ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے امریکا کی جانب سے مذاکرات کی کوشش ایران پر اپنے مطالبات تھوپنا ہے۔۔۔
ٹرمپ کی ناقابل اعتبار حکومت کا مذاکرات پر اصرار مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی توقعات پر غلبہ اور مسلط کرنا ہے۔۔۔امریکا سے مذاکرات ان کے ساتھ نئی توقعات لگانے کا راستہ ہے یہ مذاکرات کی پیشکش ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے نہیں بلکہ امریکا کے اپنے مفادات کے لئے ہے۔۔۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراغچی نے کہا کہ جب تک ایران پر امریکا کی سخت پابندیاں برقرار ہیں، تب تک ایران، امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اور دھمکیاں جاری رکھے گا، ہم کسی بھی براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں تیل کے نیٹ ورک پر لگائی گئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ایرانی قیادت کو خط لکھا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں ممکنہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو مخاطب کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے دو طرح سے نمٹا جاسکتا ہے، ایک راستہ تو عسکری ہے اور دوسرا یہ کہ معاہدہ کیا جائے، میں معاہدہ کرنا چاہوں گا کیونکہ میں ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی قیادت کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے ایک خط بھیجا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے