حکومت من مانی نہ کرے،دریائےسندھ سے نہریں نکالنے کی حمایت نہیں کر سکتا:صدر زرداری کا پارلیمنٹ سے خطاب

موجودہ پارلیمنٹ کا پہلا پارلیمانی سال۔۔۔۔ صدر مملکت آصف زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب۔۔۔

صدر مملکت نے جہاں حکومت کی معاشی اور سماجی پالیسیوں کی تعریف کی وہیں حکومت کو زاتی اور سیاسی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ قومی مفادات کے فیصلے کرنے کو کہا۔۔۔

اپنے خطاب میں صدر زرداری نے کہا ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اورسیاسی استحکام کوفروغ دینا ہے اور  اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیےمل کرکام کرنا ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا ایک سال کے دوران ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی۔

صدر مملکت کا کہنا تھا لیکن ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپورتوجہ دینا ہوگی اور ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر  پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔

صدر آصف زرداری نے ارکان پارلیمنٹ کو قومی مفاد کو بالاتر رکھنے اور ذاتی و سیاسی اختلافات پشت ڈال کر معیشت کی بحالی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت دے دی۔

اپوزیشن کے شور و شرابے کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور صدر، محب وطن پاکستانی کی حیثیت سےمیری ذمہ داری ہے کہ میں ایوان اور حکومت کو خبردار کروں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پرحکومت کا دریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کا یک طرفہ فیصلہ، اس تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کرسکتا۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کردے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جاسکے۔

صدر نے زور دیا کہ ایوانِ پارلیمنٹ کو سونپی گئی ذمہ داری کو پورا کرے، قوم کی تعمیر، اداروں کو مضبوط کرنے، گورننس کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے۔

صدر آصف زرداری نے کہا کہ ’آئیے قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ذاتی وسیاسی اختلافات کو ایک طرف کرکے معیشت کی بحالی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کریں‘۔

صدر زرداری کا کہنا تھا ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے، انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا  آئیے قومی مفاد مقدم رکھیں اور ذاتی و سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں، آئیے اپنی معیشت بحال کرنے، جمہوریت مضبوط کرنے اور قانون کی حکمرانی برقرار  رکھنے کے لیے مل کرکام کریں، ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں، ایک مضبوط اور موثرٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر،روڈ نیٹ ورکس اور جدید ریلوے کی ضرورت ہے، بلوچستان اور گلگت بلتستان پاکستان کی اسٹریٹجک سرحدیں ہیں، جو ہماری قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنائیں، زراعت ہماری معیشت کا ایک اہم ستون ہے، زرعی شعبے میں جدید طریقے، بہتر بیج کی تیاری کی ضرورت ہے، زرعی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری اور زمین کو زیادہ پیداواری بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کریں، ہمیں پانی کی زیادہ دستیابی اور اس کے مؤثر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، پاکستان کے دریاؤں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے مزید مواقع موجود ہیں، کمرشل سطح پرمویشی پالنے سے روزگار اور برآمدات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، ہمیں حیاتیاتی تنوع کی بحالی، تحفظ خوراک، پانی کی حکمت عملی اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے، قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، سندھ کے مینگرووز ایک روشن مثال ہیں کہ تحفظ کی کوششوں سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سندھ میں ہم نے 2 ارب مینگرووز لگائے ہیں، مینگروز سے سندھ حکومت کو کاربن کریڈٹ کے ذریعے خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوئے، ہمیں سندھ کے مینگروز ماڈل کو فعال طور پر نقل کرنا چاہیے اور بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

صدر نے مزید کہا کہ ’جمہوریت کچھ لو اور کچھ دو کا تقاضہ کرتی ہے، اور اجتماعی مقاصد پر کام کرنے کے لیے اس پارلیمنٹ سے بہتر جگہ اور کیا ہو سکتی ہے؟‘۔

صدر نے ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’منتخب نمائندوں کی حیثیت سے آپ قوم کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتے ہیں، جب آپ اپنے پارلیمانی امور کے بارے میں بات کرتے ہیں تو محدود مقاصد سے آگے بڑھ کر اس اتحاد اور اتفاق رائے کے بارے میں سوچیں جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں آپ سب پر زور دوں گا کہ ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائیں، اتفاق رائے سے قومی اہمیت کے فیصلے کریں، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں، سماجی اور معاشی انصاف کو فروغ دیں اور ہمارے نظام میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔

صدر زرداری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے مختص رقم میں اضافہ کریں اور وظائف اور مالی معاونت کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم کریں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور گوادر پورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں منصوبے پاکستان کے رابطے کے وژن کا مرکز ہیں۔

ان منصوبوں کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑنے والے بین الاقوامی تجارت کے گیٹ وے کے طور پر کام کر سکے۔

انہوں نے آبپاشی کے پائیدار نظام کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خوراک کی پیداوار میں استحکام اور خود کفالت کا ہدف حاصل کرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے