تاریخی دورہ: 50 سال بعد شامی ڈروز مذہبی عمائدین کا وفد اسرائیل میں داخل

شام سے تعلق رکھنے والے ڈروز مذہبی رہنماؤں کا ایک تاریخی وفد جمعہ کے روز اسرائیل پہنچا، جو پانچ دہائیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے۔ اس اقدام کو اسرائیل اور ڈروز برادری کے درمیان بڑھتی ہوئی روابط کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض حلقے اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

تقریباً 100 ڈروز مذہبی عمائدین نے اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لوئر گیلیل میں حضرت شعیبؑ کے مزار سمیت دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی۔ اسرائیلی مقبوضہ گولان میں داخلے پر مقامی ڈروز برادری نے روایتی لباس اور اپنے مخصوص پرچموں کے ساتھ وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔

شامی مذہبی رہنما نازیہ رکاب نے اس موقع کو روحانی اور برادری کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ بعد ازاں وفد نے اسرائیل میں ڈروز کمیونٹی کے روحانی پیشوا موفق طریف سے بھی ملاقات کی۔

یہ دورہ اسرائیل اور شامی ڈروز کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی حالات مسلسل تغیر پذیر ہیں۔ تاہم، آیا یہ قدم روحانی روابط کو مضبوط کرے گا یا سیاسی کشیدگی کو ہوا دے گا، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے