امریکہ کا سفری پابندیوں میں توسیع پر غور، پاکستان سمیت درجنوں ممالک متاثر ہو سکتے ہیں

امریکی انتظامیہ ایک نئی وسیع سفری پابندی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت 41 ممالک کے شہریوں پر ویزا کے حصول میں سختیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس مجوزہ پالیسی کے تحت متعدد عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے علاوہ دیگر ریاستیں بھی متاثر ہوں گی۔

تین سطحی پابندیاں

ایک داخلی حکومتی میمو کے مطابق، متاثرہ ممالک کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

1️⃣ مکمل ویزا معطلی: افغانستان، ایران، شام، لیبیا، یمن، کیوبا، اور شمالی کوریا سمیت ممالک شامل ہیں۔ ان پر سخت ترین سفری پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

2️⃣ جزوی ویزا معطلی: اریٹیریا، ہیٹی، لاؤس، میانمار، اور جنوبی سوڈان کے شہریوں کے لیے سیاحتی، تعلیمی اور امیگریشن ویزا محدود کیے جا سکتے ہیں۔

3️⃣ مشروط پابندی: بیلاروس، پاکستان، ترکمانستان سمیت 26 ممالک کو 60 دنوں میں سیکیورٹی اصلاحات نافذ کرنے کا الٹی میٹم دیا جائے گا، بصورت دیگر ان کے شہریوں پر ویزا پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

یہ نئی مجوزہ پابندیاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2017 کی مسلم سفری پابندی سے مشابہت رکھتی ہیں، جسے 2018 میں امریکی سپریم کورٹ کی توثیق ملی تھی۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فہرست ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سمیت دیگر اعلیٰ حکام کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

فیصلے کا اعلان کب ہوگا؟

تازہ ترین ہدایت نامے کے مطابق، 20 جنوری کو ایک سرکاری اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، جس میں غیر ملکی شہریوں کی سخت جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ کابینہ کے اراکین کو 21 مارچ تک حتمی فہرست پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے