غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری جاری ہے، اور آج صبح سحری کے وقت سے اب تک غزہ کی پٹی میں ہونے والے حملوں میں حماس کے سینئر رہنما سمیت کم از کم 16 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے نصیر اسپتال پر بمباری کے چند گھنٹوں بعد حماس کے رہنما اسماعیل برہوم سمیت کم از کم 2 افراد کے شہید ہونے کی رپورٹ ملی، جب کہ دیگر فلسطینیوں کی شہادتیں پناہ گزین کیمپ کے طور پر استعمال کی جانیوالی عمارتوں پر بمباری اور راکٹ حملوں میں ہوئی ہیں۔
ادھر امریکی فضائی حملوں میں یمن کے دارالحکومت صنعا کے گنجان آباد علاقے سمیت دو علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
مغربی کنارے کے قصبے سلواد سے تعلق رکھنے والا ایک 17 سالہ لڑکا اسرائیل کی میگیڈو جیل میں دم توڑ گیا۔ ! کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکام نے ولید خالد عبداللہ احمد کی موت کی تصدیق کی ہے، لیکن ان کی موت کے حالات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جیل میں شہید ہونے والے لڑکے کو 30 ستمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
نوجوان کی شہادت کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حراست میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 63 ہوگئی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی گروپ حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ کے محصور علاقے پر حملوں میں کم از کم 50 ہزار 21 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 13 ہزار 274 زخمی ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوئے، کیونکہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنوری میں کیے گئے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے انکار کے بعد غزہ پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔