امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو کسی بھی عبوری معاہدے پر دستخط سے مشروط کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔
عرب میڈیا کو ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے ممالک اور سفارتی چینلز کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز کی جزوی یا مکمل رہائی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان مجوزہ عبوری معاہدہ باضابطہ طور پر طے نہیں پا جاتا۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مالی رعایتوں اور اقتصادی سہولتوں کی فراہمی سے قبل معاہدے کو حتمی شکل دینا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس پر عملدرآمد کی ضمانت حاصل کی جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن میں ایک خصوصی فنڈ کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کے ذریعے رقوم کے استعمال اور نگرانی کا طریقہ کار طے کیا جا سکے گا۔
