اسلام آباد : پاکستان سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر سمیت متعدد قیمتی معدنیات کا حامل ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں معدنیات کے پے پناہ ذخائر ہیں اگر ان سے استفادہ کیا جائے تو پاکستان کی معیشت دنوں میں ترقی کرے گی اور آئی ایم ایف سے بھی جان چھوٹ جائےگی ۔ پاکستان منرلز سمٹ جو دو سال قبل منعقد ہوئی تھی کو عالمی اور ملکی میڈیا میں نمایاں کوریج ملی تھی جس میں بیریک گولڈ، ریو ٹنٹو، بی ایچ پی بلٹن، اور معادن جیسے بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، جو ملک کے معدنی وسائل میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کا ثبوت ہے۔
حکومت نے فارن انویسٹمنٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2022 متعارف کرایا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس میں رعایت، ڈیوٹی میں چھوٹ، اور لچکدار ملکیتی پالیسیوں جیسے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ پاکستان کا معدنی شعبہ سرمایہ کاروں کے لیے مزید پُرکشش بنایا جا سکے۔
پاکستان میں قیمتی معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں ٹیثین بیلٹ میں پورفیری کاپر-گولڈ اور نایاب زمینی عناصر شامل ہیں، جو ملک کو عالمی سطح پر ایک نمایاں معدنی مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حکومتی سرپرستی اور ماہرانہ مقامی افرادی قوت کے ذریعے پاکستان کے سرکاری ادارے معدنی شعبے کی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں، جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع ہے۔
ٹیثین بیلٹ (2,200 کلومیٹر طویل) پاکستان کو دنیا کے سب سے بڑے کاپر-گولڈ ذخائر کا حامل بناتا ہے، جہاں بلوچستان میں چاغی میگمیٹک آرک جیسے علاقے معاشی طور پر فائدہ مند معدنی منصوبوں کے لیے موزوں ہیں۔پاکستان کی وسعت پذیر معدنیات، سرمایہ کار دوست پالیسیاں، اور مضبوط عالمی شراکت داروں کی موجودگی اسے عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک ترجیحی مقام بنا رہی ہے۔
پاکستان میں 7,000 میٹرک ٹن کاپر، 50 ملین اونس سونا اور چاندی، اور اس کے ساتھ سیسہ، نکل، بیریٹ، لوہا، باکسائٹ اور گریفائٹ کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو اسے دنیا کے معدنی وسائل سے مالا مال ترین خطوں میں شامل کرتے ہیں۔
ملک میں کی گئی وسیع جیولوجیکل سروے رپورٹس نایاب معدنیات، صنعتی دھاتوں، غیر دھاتوں اور قیمتی پتھروں کے بڑے ذخائر کی نشاندہی کرتی ہیں، جو سرمایہ کاری کے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان میں بے پناہ زیرزمین معدنی وسائل ہونے کے باوجود ان سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔
بلوچستان میں 6.5 بلین ٹن کاپر کے ذخائر موجود ہیں، جن میں ریکو ڈِک (5.5 بلین ٹن) اور سینڈک (400 ملین ٹن) شامل ہیں، جبکہ 500 ملین ٹن کرومائیٹ، 14 ملین ٹن بیریٹ، اور 3 ملین ٹن چونا پتھر سالانہ پیدا ہوتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں سوات کے عالمی معیار کے زمرد کان، 3 بلین ٹن گرینائٹ، اور وسیع چونا پتھر کے ذخائر موجود ہیں، جو 7 سیمنٹ فیکٹریوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ مالاکنڈ اور چترال کے جیوکیمیکل سروے نے دھاتی معدنیات کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جہاں کاپر کے ذخائر کی کھوج جاری ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے یہ علاقے قیمتی پتھروں (راکا پوشی، ہنزہ، سکردو، سوسٹ، نیلم ویلی، مظفر آباد)، راک گولڈ، پلینسر گولڈ، اینٹمونی، اور مولیبڈینم کے ساتھ اعلیٰ معیار کے چونا پتھر کے ذخائر پر مشتمل ہیں، جو سیمنٹ کی صنعت کے لیے موزوں ہیں۔
سندھ میں 185 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جہاں سالانہ 4 ملین ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 26 بلین ٹن گرینائٹ، اور 5 بڑی سیمنٹ فیکٹریاں وسیع چونا پتھر کے ذخائر استعمال کر رہی ہیں۔
پنجاب میں لامحدود مقدار میں چونا پتھر، راک سالٹ، اور لوہا پایا جاتا ہے، جبکہ 134 ملین ٹن سلیکا کی موجودگی اس خطے کو معدنی صنعتوں کا مرکز بناتی ہے۔
کھیوڑہ سالٹ مائن: پاکستان میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان موجود ہے، جس میں 50,000 میٹرک ٹن گلابی نمک کے ذخائر پائے جاتے ہیں، جو اپنی منفرد رنگت اور معدنیاتی خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔
پاکستان 12 بلین ڈالر کی عالمی راک سالٹ مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے معروف سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے قائم کر رہا ہے، جبکہ گلابی نمک کو خوراک، آرائشی اشیاء، ڈی آئسنگ، اور صنعتی استعمالات میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔