بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی معزولی اور محمد یونس کے عبوری اقتدار سنبھالنے کے بعد، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلی بار یونس سے ملاقات کی ہے۔ یہ اہم ملاقات تھائی لینڈ میں ہونے والے BIMSTEC علاقائی سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی، جو حالیہ سفارتی کشیدگی کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
اگست 2024 میں طلبہ تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا، جس کے بعد وہ بھارت میں پناہ گزین ہوئیں۔ محمد یونس — نوبل انعام یافتہ اور مائیکروفنانس کے بانی — نے ایک نگراں حکومت کی قیادت سنبھالی۔ یونس کا پہلا غیر ملکی دورہ چین تھا، جس سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی۔
یونس اور مودی کی ملاقات: سفارتی برف پگھلنے لگی؟
یونس نے سوشل میڈیا پر مودی کے ساتھ مسکراتی ہوئی ایک تصویر شیئر کی، اور ان کی ملاقات کو "تعمیری، نتیجہ خیز اور مثبت” قرار دیا۔ ملاقات میں یونس نے مودی کو وہ یادگاری تصویر پیش کی جس میں 2015 میں انہیں غربت کے خاتمے کے لیے مودی نے گولڈ میڈل دیا تھا۔
اگرچہ بھارتی حکومت نے ملاقات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، مگر مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کی جانب اشارہ ہے۔
اہم نکات جو یونس نے مودی کے سامنے رکھے:
شیخ حسینہ کی حوالگی: عبوری حکومت نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حسینہ کو واپس کرے تاکہ وہ مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا کریں۔
سرحدی کشیدگی: بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر جھڑپوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے پیش نظر سیکیورٹی تعاون پر زور دیا گیا۔
دریائی پانی کا تنازع: یونس نے گنگا اور برہم پترا دریاؤں پر دیرینہ اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ماحولیاتی استحکام اور زرعی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، لیکن باہمی اعتماد کی مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔ خاص طور پر چین کے ساتھ یونس کے ابتدائی رابطے نے نئی دہلی کو محتاط کر دیا ہے۔
