فرانس کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری: میکرون کا دو ریاستی حل پر اہم اشارہ

0

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے انکشاف کیا ہے کہ فرانس پہلی بار باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کا امکان جون 2025 میں نیویارک میں ہونے والی عالمی امن کانفرنس کے دوران ظاہر کیا جا رہا ہے، جو سعودی عرب کے اشتراک سے منعقد ہوگی۔

امن کانفرنس: دو ریاستی حل کی نئی امید

میکرون کے مطابق کانفرنس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازعے کے حل کے لیے عالمی سفارتی کوششوں کو ازسرنو متحرک کرنا ہے۔انہوں نے کہا: "یہ محض علامتی اقدام نہیں، بلکہ امن و استحکام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

متوازن موقف: فلسطینی ریاست + اسرائیل کے وجود کا احترام

صدر میکرون نے واضح کیا کہ فرانس فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہےلیکن اسرائیل کے محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر وجود کو بھی غیر متزلزل حمایت حاصل ہےانہوں نے کہا کہ: "جو اسرائیل کے وجود سے انکار کرتے ہیں، ان کی اتنی ہی شدت سے مخالفت ہونی چاہیے جتنی ان لوگوں کی، جو فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہیں۔”

یورپی ردعمل اور ممکنہ اثرات

فرانس کے اس قدم کو یورپ میں خارجہ پالیسی کی بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ دیگر یورپی ریاستوں کو بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔میکرون نے تجویز دی کہ جون کی کانفرنس: "ایسے ممالک کے لیے ایک اجتماعی پلیٹ فارم بن سکتی ہے، جو تسلیم کرنے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔”

ممکنہ اسرائیلی ردعمل

اسرائیل نے ہمیشہ یکطرفہ طور پر فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے، اور اس اقدام پر سخت تنقید کا امکان ہے۔تاہم فرانس کا موقف ہے کہ یہ اقدام موجودہ سفارتی تعطل کو ختم کرنے اور امن عمل کو متحرک کرنے کے لیے ضروری ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.