امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی کے باوجود ملک کے پاس اب بھی تقریباً 21 سے 22 فیصد میزائل موجود ہیں۔
این بی سی نیوز کے پروگرام “میٹ دی پریس” کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے متعدد ڈرون فیکٹریاں، میزائل لانچنگ پیڈز اور پیداوار کے مراکز کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ان کے مطابق، “زیادہ تر ڈرون فیکٹریوں کو ناک آؤٹ کر دیا گیا ہے، زیادہ تر لانچنگ پیڈز ختم کر دیے گئے ہیں، اور زیادہ تر میزائل بنانے والے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن ان کے پاس اب بھی کچھ صلاحیت موجود ہے۔”
انہوں نے ویتنام جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل جنگیں پیچیدہ اور تھکا دینے والی ہوتی ہیں، اور موجودہ صورتحال بھی اسی نوعیت کی سمت بڑھ سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے پر آمادگی کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ صورتحال تہران کے لیے “بہت مشکل” ہے، کیونکہ ان کے مطابق ایرانی قیادت کو ایسے فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جن کا انہوں نے پہلے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کی صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کم ہو چکی ہے، تاہم ان کے پاس موجود میزائل اور ڈرونز اب بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق، “اگر میں فیصد کے حساب سے کہوں تو ان کے پاس شاید 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔”
