یروشلم اور بیت شیمش میں سینکڑوں الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) مظاہرین نے فوجی بھرتی سے متعلق گرفتاریوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں اور بعض مقامات پر ہنگامہ آرائی کی۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق مظاہرین نے یروشلم کے روسین کمپاؤنڈ میں واقع پولیس اسٹیشن تک پہنچنے اور اس میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت اور ہجوم پر قابو پانے کے مختلف ذرائع استعمال کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کو توڑنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ فوجی بھرتی کی مخالفت کرنے والے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
دوسری جانب بیت شیمش میں مشتعل مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھر اور دیگر اشیاء پھینکیں، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ حکام کے مطابق متعدد مقامات پر کشیدگی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
احتجاج کا یہ سلسلہ اس واقعے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں مظاہرین کے ایک گروپ نے اسرائیل کے ڈپٹی چیف جسٹس Noam Sohlberg کے گھر کے باہر ہنگامہ آرائی کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق مشتعل افراد نے گھر کی کھڑکیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں 62 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق حالیہ احتجاج بھی انہی گرفتاریوں اور فوجی بھرتی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
اسرائیل میں حریدی برادری اور حکومت کے درمیان فوجی بھرتی کا مسئلہ کئی برسوں سے سیاسی اور سماجی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ مذہبی حلقے لازمی فوجی سروس کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ حکومت فوجی ذمہ داریوں میں مساوی شرکت پر زور دیتی ہے۔
