بھارتی اقدام پر آج عالمی عدالت انصاف روانگی منسوخ کر دی گئی: اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے حالیہ اقدامات پر عالمی عدالت انصاف میں جانے کی آج طے شدہ روانگی منسوخ کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے تین اہم نکات پر دلائل دینے کا عندیہ دیا۔
منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ پہلا حصہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق ہے، جس پر وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث پہلے ہی دلائل دے چکے ہیں۔دوسرا حصہ مرکزی کیس کے دوران دی گئی یقین دہانیوں پر مشتمل ہوگا۔ تیسرا نکتہ ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو اپیل کے حق سے متعلق ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ملٹری ٹرائلز کے حوالے سے اپیل کا حق دینا ایک پالیسی معاملہ ہے اور وہ اس پر مزید ہدایات لے کر عدالت کے سامنے اپنی گزارشات رکھیں گے۔
اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ "پہلے سندھ کنال کا معاملہ زیر بحث رہا، اب بھارت نے جو کچھ کیا ہے اس پر سب کی توجہ ہے، اسی سلسلے میں آج عالمی عدالت انصاف روانگی طے تھی، جسے منسوخ کر دیا گیا۔”
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے، وہ ان کا پالیسی معاملہ ہے، عدالت نے صرف اپنے سامنے موجود کیس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر سول نظام ناکام ہو گیا ہے تو پھر تمام کیسز فوجی عدالتوں میں بھیج دیے جائیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ دلائل مکمل کرنے میں کتنا وقت درکار ہوگا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ 45 منٹ میں اپنے دلائل مکمل کرلیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔