دہشت گردی سے نمٹنے اور سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے وزیراعظم نے نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (نیفٹک) قائم کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
نفٹیک کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے تحت قائم کیا جائے گا، ادارے کے قیام کا مقصد سویلین اور ملٹری ایجنسیز کے درمیان رابطہ کار کو بہتر کرنا ہے۔
ادارے کے قیام سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو زیادہ موثر بنایا جائے گا جب کہ قومی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹر کا پہلا ڈائریکٹر فوجی افسر ہوگا۔
نفٹیک میں مختلف وزارتوں کے فوکل پرسنز کو بھی شامل کیا جائے گا، ادارے کے دفاتر چاروں صوبوں میں بھی بنائے جائیں گے۔
علاوہ ازیں، یونٹس کے قیام سے صوبائی سطح پر بھی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا آسان ہو گا، ادارہ ایکشن پلان بنانے سمیت قانونی اصلاحات کی سفارش کرنے کا ذمہ دار بھی ہو گا۔
اس سے قبل، حکومت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو قومی سلامتی کا نیا مشیر مقرر کیا تھا، وہ پاکستان کے دسویں قومی سلامتی کے مشیر بن گئے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب آئی ایس آئی کا کوئی حاضر سروس سربراہ بیک وقت مشیر قومی سلامتی کے طور پر خدمات انجام دے گا۔