روس کی اسرائیلی حملوں پر شدید مذمت: "غزہ کے شہریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے”

0

لاوروف کا سخت بیان، عرب دنیا کے ساتھ قریبی صف بندی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "اجتماعی سزا” قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک علاقائی کانفرنس میں سامنے آیا، جب اسرائیل نے غزہ پر اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

لاوروف نے کہا”اسرائیل جو غزہ میں کر رہا ہے وہ عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ انتقامی کارروائی کے نام پر شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔”انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کے ردعمل کو شدید غیر انسانی اور "ناقابل فہم” قرار دیا۔

روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان ماسکو کی اسٹریٹجک پالیسی میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ روس جو کبھی اسرائیل سے قریبی روابط رکھتا تھا، اب مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک کے ساتھ صف بندی کر رہا ہے۔

لاوروف نے کہا”ہم اپنے عرب دوستوں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر غزہ میں خونریزی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

یوکرین جنگ کے باعث مغربی دنیا میں روس کی سفارتی تنہائی کے بعد، ماسکو نے عرب دنیا، افریقہ اور چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ لاوروف کا حالیہ بیان روس کو ایک امن پسند عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے، جو انسانی حقوق، جنگ بندی، اور سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.