سعودی عرب اور ترکی میں سفارتی پاسپورٹس کے لیے ویزا استثنیٰ معاہدہ، دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت

Saudi Arabia and Turkey sign visa exemption agreement for diplomatic passports, a significant development in bilateral relations

انقرہ  — سعودی عرب اور ترکی نے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے ویزا استثنیٰ کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

06 May 2026, Turkey, Ankara: Turkish Foreign Minister Hakan Fidan (R) and Saudi Arabian Foreign Minister Prince Faisal bin Farhan Al Saud sign a bilateral agreement on mutual visa exemption for diplomatic and special passport holders following the third meeting of the Turkish-Saudi Coordination Council in Ankara. Photo: -/Saudi Press Agency/dpa

معاہدے پر دستخط انقرہ میں ہونے والی ترکی-سعودی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے دوران کیے گئے، جہاں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مشترکہ طور پر اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی سعودی وزیر خارجہ کا صدارتی کمپلیکس میں خیرمقدم کیا۔

اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں استحکام اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

ترکی-سعودی رابطہ کونسل کے فریم ورک کے تحت ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ممالک نے باہمی ہم آہنگی بڑھانے اور ترقیاتی منصوبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔

ترکی-سعودی رابطہ کونسل 2016 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک منظم اور مستقل فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا ہے۔ اس کونسل کے تحت سیاسی و سفارتی، دفاعی و سیکیورٹی، ثقافت و میڈیا، تعلیم و صحت اور تجارت و سرمایہ کاری سمیت پانچ اہم ذیلی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کونسل کا اگلا اجلاس سعودی عرب میں منعقد کیا جائے گا، جس کی تاریخ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں علاقائی طاقتیں اپنے تعلقات کو عملی تعاون کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ویزا استثنیٰ جیسے اقدامات نہ صرف سفارتی روابط کو آسان بناتے ہیں بلکہ کاروباری اور سرکاری سطح پر دوروں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیاسی و سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں میں نئی صف بندی کر رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے