فرانس نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمر بن گویر کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے کارکنان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور تشدد کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ Jean-Noël Barrot نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اتمر بن گویر پر آج سے فرانسیسی سرزمین میں داخلے کی پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے تناظر میں کیا گیا۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے مزید بتایا کہ وہ اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ مل کر یورپی یونین سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیر پر مشترکہ یورپی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ غزہ فلوٹیلا کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا جا سکے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے غصے میں اس وقت اضافہ ہوا جب Itamar Ben-Gvir نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں غزہ جانے والے فلوٹیلا کارکنان کا مذاق اڑایا گیا۔ اس کے بعد کئی کارکنان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں جسمانی تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
فلوٹیلا میں شامل بعض رضاکاروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں دورانِ حراست دھمکیاں دی گئیں جبکہ کچھ افراد نے طبی امداد کی ضرورت بھی ظاہر کی۔ ان الزامات کے بعد یورپی ممالک میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید میں مزید شدت آ گئی ہے۔
